Monday, October 29, 2012

بھارت کے ساتھ تعلقات


(گزشتہ سے پیوستہ)
دوسرا اور آخری حصہ


امریکہ کے تھنک ٹینک نے نو گیارہ کے بعد شروع ہونے والی عالمی صلیبی جنگ کو معرکۂ قلوب و اذہان(Battle of Hearts and Minds) سے تعبیر کیا اور اس کے تحت اسلام اور مسلمانوں کا ایک اعتدال پسند(Moderate) تصور پیش کیا  جو جہادی روح اور نفاذِ اسلام کی بجاۓ بین المذاہب ہم آہنگی، عورت کی معاشرتی آزادی اور جمہوریت پر یقین رکھتا ہو۔ کیونکہ کفر یہ جانتا ہے کہ جہادی قوت کی فراہمی کا بنیادی سبب قرآنی تعلیمات ہیں۔ لہٰذا قرآن کی تعلیمات کو مسخ کرنا اور دین کے بارے میں شبہات کی آگ بھڑکانا ان کے لیے ضروری ٹھہرا۔ دوسری طرف مسلمانوں میں دین سے دوری پیدا کرنے کے لیے فحاشی و عریانی اور دیگر شہوات کو خوب فروغ دینے کا منصوبہ بنایا گیا۔ پاکستان کے عوام میں موجود دینی جذبہ سے خائف حکمرانوں نے اس امریکی ایجنڈے پر بھرپور طریقے سے عملدر آمد کیا۔ میڈیا کے ذریعے جہاں ایک طرف فحاشی کو فروغ دیا گیا یہاں تک کہ آج فحاشی کی تعریف کے تعیّن ہی میں اختلاف ہونے لگا تو دوسری طرف غامدی، ڈاکٹر فاروق اور طاہر القادری جیسے ملحد سکالرز کو ہر چینل پر بھرپور جگہ دی گئی جیسے یہ سلفِ امّت کے علم کے امین ہیں۔  اس کے ساتھ ساتھ علماۓ حق کا تشخص بگاڑنے کے لیے ان کا وکیل سمجھی جانی والی شخصیات کو ٹی وی پر اختلافی مباحث میں گھسیٹا گیا تا کہ عوام کے دلوں سے ان کا احترام جاتا رہے اور عوام خود کو علماء کی رہنمائی سے آزاد سمجھنے لگ جائیں اور دین کی من پسند تشریح کرنا اپنا حق سمجھیں۔ طالبان اور مجاہدین کی محبت مسلمانوں کے دل سے نکالنے کے لیے انہیں اجڈ، ظالم ، شدت پسند اور دہشت گرد باور کرایا گیا اور نام نہاد دانش وروں اور تجزیہ نگاروں کی زبانی یہ ثابت کیا گیا کہ علماء اور طالبان اس قابل نہیں کہ وہ اس جدید دور میں قوم کی قیادت کر سکیں۔ اسی طرح کی مہم تعلیمی اداروں میں بھی شروع کی گئی، نصاب کو بار بار تبدیل کیا گیا اور ملکی یونیورسٹیوں میں فیشن ڈیزائین، آرٹ، فلم سازی جیسے پروگرام شروع کرواۓ گئے۔ مخلوط تعلیم کی حوصلہ افزائی کی گئی یہاں تک کہ اب گورنمنٹ کے تحت چلنے والے پرائمری سکولوں کو بھی اساتذہ اور طلباء دونوں کے لحاظ سے مخلوط بنا دیا گیا۔