تحریر:
عبد الرحمن مجاہد
آفتابِ
نبوّتﷺ کی توہین پر مبنی فلم نے ہر صاحبِ ایمان کو جھنجوڑ کر رکھ دیا۔ پورا عالمِ
اسلام سراپا احتجاج ہے، نہتے مسلمان جا بجا اس امریکہ کو للکار رہے ہیں جس کی
ٹیکنالوجی کا دبدبہ کمزور دلوں کو دہلا دیا کرتا تھا۔ کہیں امریکی سفیر مسلمانوں
کے جوتوں کی نوک پر دم توڑتا نظر آرہا ہے اور کہیں کٹھ پتلی حکمرانوں کے لیے عبادت
خانوں کی حیثیت رکھنے والے امریکی سفارت خانے آگ کی نظر ہو رہے ہیں۔ اس سب سے بڑھ
کر اِن قیصری محلّات پر جابجا القاعدہ و طالبان کے کلمے والے جہادی پرچم عام
مسلمانوں کے ہاتھوں لہراۓ جا رہے ہیں۔ آسمان الجہاد الجہاد کے نعروں سے گونج رہا
ہے۔ صاف نظر آرہا ہے کہ حبِّ نبیﷺ نے امّت کو نجات کا رستہ دکھا دیا، شیخ اسامہ
رحمہ اللہ کی بات امّت کے قلب و ذہن میں اتر گئی، امیر المؤمنین ملّا محمد عمر
حفظہ اللہ کا امریکہ کے خلاف جہاد امّت نے تسلیم کر لیا، شیخ ابو مصعب زرقاوی، شیخ
انور عولقی، ملا داد اللہ، ملّا عبیدا للہ، شیخ مصطفیٰ، شیخ عطیۃ اللہ، شیخ ابو
یحیٰ، بیت اللہ مسعود(رحمہم اللہ) وغیرھم کی آوازیں ان کی شہادت کے بعد امّت میں
اپنی جگہ پا گئیں، افغانستان و وزیرستان
کے شہداء کی قربانی بار آور ہوئی، عراق کے فدائیوں کی قربانیوں کا صلہ مل گیا اور
پہاڑوں و ریگزاروں میں عالمی صلیبی صہیونی فساد کے خلاف برسرِ پیکار متوکّل
مجاہدین کی دعائیں قبول ہو گئیں۔ آج امریکہ کے خلاف جہاد کوئی تنظیم نہیں بلکہ
امّتِ مسلمہ کر رہی ہے، امریکی دجّالیت اور انتہا پسندی و دہشت گردی جیسی اصطلاحات
کا سحر ٹوٹ گیا ہے۔ اب ہر ہر مسلمان مجاہدین کا پشتیبان ہے۔ ان شاء اللہ اب وہ وقت
دور نہیں جب نبی آخر الزمانﷺ کے خاکے بنانے والوں کی خاک بھی نہ ملے گی۔